نئی دہلی، 7؍ مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) جمعہ کے روزہ کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبر نے یس بینک کیس پر حکومت کو نشانہ بنایا ۔ چدمبر نے دعویٰ کیا کہ اس سے مالیاتی اداروں کو کنٹرول کرنے اور ن کو منظّم کرنے کی حکومت کی قابلیت ظاہر ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ یس بینک کی حالت اتنی خراب ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے یس بینک سے رقم نکلوانے کی حد طے کردی ہے۔ یس بینک کے صارفین کے مفادات کے تحفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے یس بینک سے فی اکاؤنٹ 50؍ہزار روپے تک لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یس بینک ایک بحران سے گذراہا ہے ۔ یہاں تک کہ دن کی تجارت کے دوران بھی ، یس بینک کے حصص میں 50 ؍ فیصد تک کمی واقع ہوئی۔
سابق وزیر خزانہ چدمبر نے دعویٰ کیا ، ’بی جے پی 6 سالوں سے اقتدار میں ہے۔ مالیاتی اداروں کو کنٹرول کرنے کی ان کی صلاحیت اجا گر ہوگئی۔ ‘ انہوں نے سوال کی، ’ پہلے پی ایم سی بینک ، اب یس بینک۔ کیا حکومت کو کوئی فکر نہیں ہے؟ کیا وہ اپنی ذمہ داری سے بچ سکتی ہے؟ کیا ابھی قطار میں کوئی تیسرا بینک ہے ؟ ’اس کے علاوہ ، چدمبر نے ٹویٹ کیا ہے، کیا یہ سچ ہے کہ اسٹیٹ بینک یس بینک میں ’ سرمایہ کار کے مواقع تلاش کررہے ‘؟ یس بینک میں ایس بی آئی کیوں سرمایہ لگائے؟ چدمبر نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا ، ’ ایس بی آئی کو یس بینک کی لون بک ایک روپیہ پر لینا چاہئے، قرض کی وصولی ، اور جمع کروانے والوں کو بھی یقین دلانا چاہئے کہ ان کی رقم محفوظ رہے گی اور واپس کردی جائے گی۔’اہم بات یہ ہے کہ جمعرات کو ریزرو بینک نے حکومت سے مشاورت کے بعد یس بینک پر پابندی عائد کردی اور اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بھی تحلیل کردیا۔ ایک ہی وقت میں، بینک کے صارفین کو بھی ماہانہ 50000روپے تک کی واپسی پر پابندی ہے۔ یس بینک کوئی نیا قرض تقسیم یا سرمایہ نہیں کرسکے گا۔